رباعی شمارهٔ 161

ابھی تک تو آب و گل کے بندھن سے آزاد نہیں ہوا

Still bound by water and clay's constraint

Toggle stanza 1
هنوز از بند آب و گل نرستی
1
هنوز از بند آب و گل نرستی
تو گوئی رومی و افغانیم من

ابھی تک تو آب و گل کے بندھن سے آزاد نہیں ہوا —

تو کہتا ہے کہ میں رومی ہوں، میں افغانی ہوں۔

Still bound by water and clay's constraint —

You call yourself Rumi, and Afghan by claim.

2
من اول آدم بی رنگ و بویم
از آن پس هندی و تورانیم من

میں پہلے بے رنگ و بو (محض انسان) ہوں —

اس کے بعد ہندی یا تورانی ہوں۔

I am the primordial Adam, without hue or scent —

Then I became Indian and Turanian, as the ages went.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور