بخش 2 - دردانه ادا شناس دریاست
Trifles - The pearl is used to the ways of the sea
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)
قافیہ: ازگردشاسیاچهداند
صنف: غزل/قصیده/قطعه
انگریزی ترجمہ: ہادی حسین
Toggle stanza 1دردانه ادا شناس دریاست
11
دردانه ادا شناس دریاست
از گردش آسیا چه داند؟
موتی کا دانہ دریا کی ادا کو سمجھتا ہے وہ چکی کی گردش کو کیا جانے(موتی بھی اگرچہ دانہ ہے لیکن اس کی ساری زندگی سمندر میں گزر جاتی ہے اس لیے وہ اس دانہ کی مصیبت کا اندازہ نہیں کر سکتا جو چکی کے پاٹ میں پس کر سرمہ ہو جاتا ہے ۔
The pearl is used to the ways of the sea. What can it know about the millstone that grind grain?
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

