بخش 1 - میخورد هر ذره ما پیچ و تاب

Trifles - Agony in every atom of our being

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

قافیہ: راست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل/قصیده/قطعه

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی
انگریزی ترجمہ: نکلسن
Toggle stanza 1
میخورد هر ذره ما پیچ و تاب
1

میخورد هر ذره ما پیچ و تاب

محشری در هر دم ما مضمر است

ہمارا ذرہ ذرہ بل کھاتا رہتا ہے ۔ ہماری ہر سانس میں ایک محشر چھپا ہوا ہے ۔

Agony in every atom of our being, every breath of us a rising from the dead.

2

با سکندر خضر در ظلمات گفت

مرگ مشکل ، زندگی مشکل تر است

خضر نے آب حیات کے اندھیرے کنارے پر سکندر سے کہا (بیشک) موت دشوار ہے مگر زندگی اس سے دشوار تر ہے ۔

To Sikandar lost amidst the Land of Darkness, ‘Hard is Death, but Life is harder’, Khizar said.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور