رباعی شمارهٔ 88
تم کیا پوچھتے ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں؟
The Tulip of Sinai - 88
Toggle stanza 1چه پرسی از کجایم چیستم من؟
11
چه پرسی از کجایم چیستم من؟
به خود پیچیدهام تا زیستم من
تم کیا پوچھتے ہو کہ میں کہاں سے آیا ہوں اور کیا ہوں؟ —
میں اپنے گرد گھومتا ہوں تاکہ زندہ رہ سکوں ۔
O ask not what I am, or whence came I: ’Tis self-involvement I am living by:
22
درین دریا چو موج بیقرارم
اگر بر خود نپیچم نیستم من
زندگی کے اس سمندر میں ایک بے چین موج کی طرح ہوں —
اگر میں اپنے آپ سے وابستہ نہ رہوں تو میری ہستی ختم ہوجاتی ہے۔
Within this sea I am a restless wave, And when I am no more involved, I die.
آڈیو
صداکار منتخب کریں
0:000:00

