رباعی شمارهٔ 117

ہمارے سوز ناتمام ہی سے ہمارا دوام ہے

Our endurance springs from an unending blaze

Toggle stanza 1
دوام ما ز سوز ناتمام است
1
دوام ما ز سوز ناتمام است
چو ماهی جز تپش بر ما حرام است

ہمارے سوز ناتمام ہی سے ہمارا دوام ہے —

مچھلی کی مانند ہم سوائے تپش کے اور کچھ نہیں رکھتے ۔

Our endurance springs from an unending blaze —

Like fish, only in struggle do we find our ways.

2
مجو ساحل که در آغوش ساحل
تپید یک دم و مرگ دوام است

ساحل تلاش نہ کر کیونکہ ساحل کی آغوش میں —

ایک لمحے کی تڑپ ہے اور پھر ہمیشہ کی موت۔

Seek not the shore, for in its embrace —

A moment's rest is death's eternal place.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور