بخش 11 - غزل زنده رود

غزل زندہ رود

Ghazal of Zinda-Rud

Toggle stanza 1
به آدمی نرسیدی ، خدا چه می‌جویی
1

به آدمی نرسیدی ، خدا چه می‌جویی

ز خود گریخته‌ای آشنا چه می‌جویی

تو آدمی تک تو پہنچا نہیں ، خدا تعالیٰ کو کیا ڈھونڈتا ہے ۔ تو تو خود سے بھاگا ہوا ہے (اپنے آپ سے دور ہے ) تو آشنا کیا تلاش کرتا ہے ۔

You have not reached Man, so why do you seek God? You have fled from your self; why do you seek a friend?

2

دگر به شاخ گل آویز و آب و نم درکش

پریده رنگ ز باد صبا چه می‌جویی

تو پھر پھول (اسلام) کی شاخ سے لٹک اور پانی اور نمی جذب کر لے ۔ اے اڑے ہوئے رنگ والے (کملائے ہوئے پھول) تو بادصبا سے کیا تلاش کرتا ہے ۔

Hang again on the rose-twig and suck in the sap and the dew; faded blossom, what are you seeking from the zephyr?

3

دو قطره خون دلست آنچه مشک می‌نامند

تو ای غزال حرم در ختا چه می‌جویی

جسے کستوری کہا جاتا ہے وہ خون دل کے دو قطرے ہی تو ہیں ۔ اے حرم کے ہرن تو ملک خطا میں کیا ڈھونڈتا ہے (غزال حرم سے مراد مسلمان ہے ) ۔

What they call musk is two drops of the heart’s blood; gazelle of the Sanctuary, what are you seeking in Cathay?

4

عیار فقر ز سلطانی و جهانگیری است

سریر جم بطلب، بوریا چه می‌جویی

فقر کی کسوٹی سلطانی اور جہانگیری ہے ۔ تو جمشید کا تخت طلب کر، بوریا کیا ڈھونڈ رہا ہے

Poverty’s assay is by sovereignty and world-dominion; seek Jamshid’s throne-why do you seek a reed-mat?

5

سراغ او ز خیابان لاله می‌گیرند

نوای خون شدهٔ ما ز ما چه می‌جویی

اس کا سراغ تو لالہ کی کیاریوں سے لگایا جاتا ہے ۔ ہماری خوں شدہ نوا کو ہم سے کیا ڈھونڈتا ہے ۔

Men track it out from the garden of tulips; why do you seek from me the song drenched with blood?

6

نظر ز صحبت روشندلان بیفزاید

ز درد کم‌بصری توتیا چه می‌جویی

روشن ضمیر حضرات کی صحبت سے نظر میں اضافہ ہوتا ہے ۔ تو اپنی کمزورنظروں کے لیے سرمے کی تلاش کر رہا ہے ۔

The vision augments through the company of the enlightened of heart; why do you seek collyrium from the sorrow of the short-sighted?

7

قلندریم و کرامات ما جهان‌بینی است

ز ما نگاه طلب ، کیمیا چه می‌جویی

ہم قلندرہیں اور ہماری کرامات جہاں بینی ہے ۔ تو ہم سے نگاہ طلب کر، کیمیا کیا تلاش کرتا ہے ۔

We are calenders, and our miracle is world-vision; seek vision from us-why seek the philosopher’s stone?

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور