وزن کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف وزنِ مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب) میں آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
نوای وقت(زمانے کا گیت) وقت کہتا ہے
عشق
میں صورت کا پجاری نہیں ہوں میں نے مندر ڈھا دیا ہے ۔ میں وہ تیز رو سیلاب ہوں جس نے سارے بند توڑ دیے ہیں ۔
پچھلے پہر کے سینکڑوں نالے، سینکڑوں بلاخیز صبحیں ، چنگاریاں برساتی سینکڑوں آہیں اٹھتی ہیں تب کہیں دل میں کھب جانے والا شعر وجود میں آتا ہے ۔
عاشق کعبے اور بت خانے میں کوئی فرق نہیں رکھتا ۔ شاعر نے بت خانہ کو جلوت جانانہ اور کعبہ کو خلوت جانانہ سے تعبیر کیا ہے مطلب یہ دونوں میں اس کا جلوہ ہے ۔
یہ گنبد مینائی (آسمان) یہ پستی اور بلندی، سب اپنی وسعت کے باوجود عاشق کے دل میں سما جاتے ہیں ۔