غزل شمارهٔ 24

غزل نمبر24

Ghazal No. 24

Toggle stanza 1
فرقی ننهد عاشق در کعبه و بتخانه
1

فرقی ننهد عاشق در کعبه و بتخانه

این جلوت جانانه آن خلوت جانانه

عاشق کعبے اور بت خانے میں کوئی فرق نہیں رکھتا ۔ شاعر نے بت خانہ کو جلوت جانانہ اور کعبہ کو خلوت جانانہ سے تعبیر کیا ہے مطلب یہ دونوں میں اس کا جلوہ ہے ۔

A true lover does not differentiate between the Ka‘bah and the idol-house. The one is the Beloved’s privacy, the other His appearing publicly.

2

شادم که مزار من در کوی حرم بستند

راهی ز مژه کاوم از کعبه به بتخانه

میں خوش ہوں کہ میری قبر کوئے حرم میں بنائی گئی ہے کعبے سے بتخانے تک پلکوں سے ایک راستہ کھود لوں گا ۔

I am glad my grave has been built in the Harem’s own street. With my eyelashes I will dig a tunnel from the Ka‘bah to the idol-house. (A Message from the East).

3

از بزم جهان خوشتر از حور جنان خوشتر

یک همدم فرزانه وز باده دو پیمانه

دنیا و مافیہا سے اچھی حور اور جنت سے بہتر ایک ہوشیار ساتھی اور شراب کے دو پیالے ۔

Better than any company in this world or the next are a sagacious friend and two goblets of wine.

4

هر کس نگهی دارد هر کس سخنی دارد

در بزم تو می خیزد افسانه ز افسانه

ہر شخص نگاہ رکھتا ہے اس لیے مجھے دیکھتا ہے ہر آدمی کے پاس اپنی ایک بات ہے ۔ تیری محفل میں کہانی سے کہانی نکلتی چلی جاتی ہے ۔

Here everyone has eyes and everyone a tongue. So in your company one story breeds another.

5

این کیست که بر دلها آورده شبیخونی

صد شهر تمنا را یغما زده ترکانه

یہ کون ہے جس نے دلوں پر شبخون مارا ہے تمنا کے سینکڑوں شہر ترکوں کی طرح تاراج کر دیے ہیں ۔

Who is He Who has launched a night-attack on hearts, who like a Turk has plundered a hundred cities of desire?

6

در دشت جنون من جبریل زبون صیدی

یزدان به کمند آور ای همت مردانه

میری دیوانگی کے صحرا میں جبریل ایک گرا پڑا شکار ہے ۔ اے ہمت مرداں یزداں پر کمند ڈال (محبت میں اللہ تعالیٰ کو لا ۔ اپنے اندر خدائی صفات کا رنگ پیدا کر اور یہ رنگ عشق رسول کی بدولت پیدا ہو سکتا ہے) ۔

Where I roam in my mad pursuit the angel Gabriel is but small game. Come, O my manly courage, cast a lasso upon God Himself.

7

اقبال به منبر زد رازی که نباید گفت

نا پخته برون آمد از خلوت میخانه

اقبال نے منبر پر چڑھ کر وہ راز کہہ دیا جو کہنے کا نہ تھا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ خلوت میخانہ سے ناپختہ ہی باہر آ گیا ہے ۔

Iqbal has in the pulpit blurted out a secret that was not to be revealed. Well, he had issued forth still raw from the wine-tavern’s privacy.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور