بخش 41 - عشق

عشق

Love

Toggle stanza 1
عقلی که جهان سوزد یک جلوهٔ بی‌باکش
1

عقلی که جهان سوزد یک جلوهٔ بی‌باکش

از عشق بیاموزد آیین جهان‌تابی

عقل جس کا ایک جلوہ بے باک دنیا کو جلا دیتا ہے ۔ اس نے جہان کو روشن کرنے کا طریقہ عشق سے سیکھا ہے ۔

To Intellect, which, if it chose, could set the universe aflame, learns from Love to illuminate, instead of burning up, its frame.

2

عشق است که در جانت هر کیفیت انگیزد

از تاب و تب رومی تا حیرت فارابی

یہ عشق ہی ہے جو تیری روح میں ہر کیفیت پیدا کرتا ہے ۔ رومی کے جوش اور تڑپ سے لیکر فارابی کی حیرت تک (رومی مسلک عشق کے علمبردار ہیں اور عشق کا ثمرہ تب و تاب ہے ۔ فارابی مذہب عقل کا نمائندہ ہے اور عقل کا نتیجہ حیرت و استعجاب ہے ۔ )

To Love it is that your soul owes its heightened states’ engenderment – from Rumi’s ardent passion to Farabi’s solemn wonderment.

3

این حرف نشاط‌آور می‌گویم و می‌رقصم

از عشق دل آساید با این همه بی‌تابی

میں اس نشاط آور حرف کا ورد کرتا ہوں اور ناچتا ہوں اس تمام بے تابی کے باوجود دل عشق ہی سے چین (سکون) پاتا ہے ۔

I sing these joy-inspiring words – I sing them and dance with delight – Love is a balsam for the heart despite its soul-tormenting might.

4

هر معنی پیچیده در حرف نمی‌گنجد

یک لحظه به دل در شو شاید که تو دریابی

حر ف میں ہر پیچیدہ معنی نہیں سماتا ۔ اک پل کے لیے اپنے دل کے اندر نظر ڈال شاید کہ تو اسے پا جائے ۔ اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی ۔

Not every subtle point can be expressed in words. Consult a while your own heart: maybe you will see my point made in the heart’s own style.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور