صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قطعات
  4. »شمارهٔ 67

شمارهٔ 67

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)

قافیہ: ادباشد

صنف: قطعه

Toggle stanza 1
1

از دست تهی کرم نیاید

هر چند دلش جواد باشد

2

مسکین چه کند سوار چالاک

چون اسب نه بر مراد باشد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

روزی به سرش نبشته بودند

کاین دولت و منصب آن نیرزد

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 66

اگلی نظم

کسی به حمد و ثنای برادران عزیز

ز عیب خویش نباید که بیخبر باشد

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 68

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور