صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قطعات
  4. »شمارهٔ 224

شمارهٔ 224

شاعر: سعدی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ندکنی

صنف: قطعه

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
چو بندگان کمر بسته شرط خدمت را
روا بود که به کمترگناه بند کنی
22
تو نیز بنده‌ای آخر ستیز نتوان برد
خلاف امر خداوندگار چند کنی
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

یاران کجاوه، غم ندارند

از منقطعان کاروانی

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 223

اگلی نظم

ای که گر هر سر موییت زبانی دارد

شکر یک نعمت از انعام خدایی نکنی

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 225

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00