صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »مفردات
  4. »شمارهٔ 8

شمارهٔ 8

شاعر: سعدی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: بازاست

صنف: غزل/قصیده/قطعه

Toggle stanza 1
1

هر که گوید کلاغ چون باز است

نشنوندش که دیده‌ها باز است

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

رفتن چو ضرورت‌است و منزل به گذاشت،

من خود ننهم دلی که بر باید داشت

سعدی»مواعظ»مفردات»شمارهٔ 7

اگلی نظم

گر راه نمایی، همه عالم راه‌است

ور دست نگیری، همه عالم چاه‌است

سعدی»مواعظ»مفردات»شمارهٔ 9

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور