صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قطعات
  4. »شمارهٔ 75

شمارهٔ 75

شاعر: سعدی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: انچکد

صنف: قطعه

Toggle stanza 1
1

هیچ دانی که آب دیدهٔ پیر

از دو چشم جوان چرا نچکد؟

2

برف بر بام سالخوردهٔ ماست

آب در خانهٔ شما نچکد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تشنهٔ سوخته در چشمهٔ روشن چو رسید

تو مپندار که از سیل دمان اندیشد

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 74

اگلی نظم

دوستان سخت پیمان را ز دشمن باک نیست

شرط یار آنست کز پیوند یارش نگسلد

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 76

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور