صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »مثنویات
  4. »شمارهٔ 37

شمارهٔ 37

شاعر: سعدی

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

صنف: مثنوی

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
دوام دولت اندر حق شناسی‌ست
زوال نعمت اندر ناسپاسی است
22
اگر فضل خدا بر خود بدانی
بماند بر تو نعمت جاودانی
33
چه ماند از لطف و احسان و نکویی؟
حرامت باد اگر شکرش نگویی
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آنکه هفت اقلیم عالم را نهاد

هر کسی را هر چه لایق بود داد

سعدی»مواعظ»مثنویات»شمارهٔ 36

اگلی نظم

کتاب از دست دادن سُست‌رایی‌ست

که اغلب خوی مردم بی‌وفایی‌ست

سعدی»مواعظ»مثنویات»شمارهٔ 38

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00