صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قطعات
  4. »شمارهٔ 145

شمارهٔ 145

شاعر: سعدی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: ردامروز

صنف: قطعه

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
هر چه می‌کرد با ضعیفان دزد
شحنه با دزد باز کرد امروز
22
ملخ آمد که بوستان بخورد
بوستانبان ملخ بخورد امروز
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گروهی از سر بی‌مغز بیخبر گویند

بریده به سر بدگوی تا نگوید راز

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 144

اگلی نظم

پدر که جان عزیزش به لب رسید چه گفت؟

یکی نصیحت من گوش دار جان عزیز

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 146

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00