صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قطعات
  4. »شمارهٔ 214

شمارهٔ 214

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)

قافیہ: نگی

صنف: قطعه

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
بس دست دعا بر آسمان بود
تا پای برآمدت به سنگی
22
ای گرگ نگفتمت که روزی
ناگه به سر افتدت پلنگی؟
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ز لوح روی کودک بر توان خواند

که بد یا نیک باشد در بزرگی

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 213

اگلی نظم

حاجت خلق از در خدای برآید

مرد خدایی چکار بر در والی؟

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 215

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00