صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »مواعظ
  3. »قطعات
  4. »شمارهٔ 148

شمارهٔ 148

شاعر: سعدی

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: ومباش

صنف: قطعه

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
پادشاهان پاسبانانند مر درویش را
پند پیران تلخ باشد بشنو و بدخو مباش
22
چون کمند انداخت دزد و رخت مسکینی ببرد
پاسبان خفته خواهی باش و خواهی گو مباش
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ملکداری با دیانت باید و فرهنگ و هوش

مست و غافل کی تواند؟ عاقل و هشیار باش

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 147

اگلی نظم

پروردگار خلق خدایی به کس نداد

تا همچو کعبه روی بمالند بر درش

سعدی»مواعظ»قطعات»شمارهٔ 149

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00