صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 420

غزل شمارهٔ 420

شاعر: سعدی

وزن: مفتعلن مفتعلن فاعلن (سریع مطوی مکشوف)

قافیہ: ورایصنم

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرا تا نقره باشد می‌فشانم

تو را تا بوسه باشد می‌ستانم

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 419

اگلی نظم

چون من به نفس خویشتن این کار می‌کنم

بر فعل دیگران به چه انکار می‌کنم؟

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 421

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00