صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 626

غزل شمارهٔ 626

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعلن فعولن (هزج مسدس اخرب مقبوض محذوف)

قافیہ: وی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شب است و شاهد و شمع و شراب و شیرینی

غنیمت است چنین شب که دوستان بینی

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 625

اگلی نظم

خواهم اندر پایش افتادن چو گوی

ور به چوگانم زند هیچش مگوی

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 627

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

دیوانه شدم ز یار بدخوی

بیگانه پرست و آشنا روی

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1814

سرمست درآمد از سر کوی

ناشسته رخ و گره زده موی

عطار»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 835

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00