صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 124

غزل شمارهٔ 124

شاعر: سعدی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: یدننیست

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در من این هست که صبرم ز نکورویان نیست

از گل و لاله گزیرست و ز گل‌رویان نیست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 123

اگلی نظم

کس ندانم که در این شهر گرفتار تو نیست

هیچ بازار چنین گرم که بازار تو نیست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 125

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00