صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 134

غزل شمارهٔ 134

شاعر: سعدی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: رمیگشت

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

خیال روی توام، دوش در نظر می‌گشت

وجود خسته‌ام از عشق، بی‌خبر می‌گشت

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 133

اگلی نظم

آن را که میسر نشود صبر و قناعت

باید که ببندد کمر خدمت و طاعت

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 135

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

چو ابر زلف تو پیرامن قمر می‌گشت

ز ابر دیده کنارم به اشک تر می‌گشت

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 132

خیال روی توام، دوش در نظر می‌گشت

وجود خسته‌ام از عشق، بی‌خبر می‌گشت

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 133

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00