صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 434

غزل شمارهٔ 434

شاعر: سعدی

وزن: مفتعلن فاعلات مفتعلن فع (منسرح مثمن مطوی منحور)

قافیہ: ستیم

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ما به روی دوستان از بوستان آسوده‌ایم

گر بهار آید وگر باد خزان آسوده‌ایم

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 433

اگلی نظم

ای سروبالایِ سهی، کز صورت حال آگهی

وز هر که در عالم بهی، ما نیز هم بد نیستیم

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 435

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00