صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 97

غزل شمارهٔ 97

شاعر: سعدی

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: الدوست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ز هر چه هست گزیرست و ناگزیر از دوست

به قول هر که جهان مهر برمگیر از دوست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 96

اگلی نظم

گفتم مگر به خواب ببینم خیال دوست

اینک علی الصباح نظر بر جمال دوست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 98

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

چندین جمال هست نهان در جلال دوست

خوشتر ز گوشوار بود گوشمال دوست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2016

گفتم مگر به خواب ببینم خیال دوست

اینک علی الصباح نظر بر جمال دوست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 98

آن به که چون منی نرسد در وصال دوست

تا ضعف خویش حمل کند بر کمال دوست

سعدی»مواعظ»غزلیات»غزل شمارهٔ 12

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00