صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 114

غزل شمارهٔ 114

شاعر: سعدی

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: یبنیست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرا از آن چه که بیرونِ شهر، صحرایی‌ست؟

قرینِ دوست به هرجا که هست، خوش جایی‌ست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 113

اگلی نظم

کیست آن کَش سر پیوند تو در خاطر نیست

یا نظر با تو ندارد مگرش ناظر نیست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 115

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

بیرون میا ز پرده که ما را شکیب نیست

اینک بلند گفتمت، از کس حجیب نیست

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 287

چشمم به دستگیری لطف جیب نیست

نبضم رهین منت دست طبیب نیست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 2030

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00