صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »قطعات
  4. »قطعه شمارهٔ 17 - کاه و کهربا

قطعه شمارهٔ 17 - کاه و کهربا

شاعر: سعدی

وزن: فعلاتن مفاعلن فعلن (خفیف مسدس مخبون)

قافیہ: سکین

صنف: قطعه

صداکاران: فاطمه زندی، محسن لیله‌کوهی
Toggle stanza 1
11
چند گویی که مهر ازو بردار
خویشتن را به صبر ده تسکین
22
کهربا را بگوی تا نبرد
چه کند کاه پاره‌ای مسکین؟
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

کسی ملامتم از عشق روی او می‌کرد

که خیره چند شتابی به خون خود خوَردن؟

سعدی»دیوان اشعار»قطعات»قطعه شمارهٔ 16 - از او بپرس!

اگلی نظم

بر آن گلیم سیاهم حسد همی آید

که هست در بر سیمین چون صنوبر او

سعدی»دیوان اشعار»قطعات»قطعه شمارهٔ 18 - سیه گلیم

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00