صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 259

غزل شمارهٔ 259

شاعر: سعدی

وزن: مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: وبود

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرا راحت از زندگی دوش بود

که آن ماهرویم در آغوش بود

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 258

اگلی نظم

من چه در پای تو ریزم که خورای تو بود؟

سر نه چیزی‌ست که شایستهٔ پای تو بود

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 260

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آن راکه زخمی از دم شمشیر او بود

بی چشم زخم آب حیاتش به جو بود

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 4240

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00