صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 624

غزل شمارهٔ 624

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعیلن مفعول مفاعیلن (هزج مثمن اخرب)

قافیہ: ینی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دیدار می‌نمایی و پرهیز می‌کنی

بازار خویش و آتش ما تیز می‌کنی

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 623

اگلی نظم

شب است و شاهد و شمع و شراب و شیرینی

غنیمت است چنین شب که دوستان بینی

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 625

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ای بود تو از کی نی وی ملک تو تا کی نی

عشق تو و جان من جز آتش و جز نی نی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2578

در عشق کجا باشد مانند تو عشقینی

شاهان ز هوای تو در خرقه دلقینی

رومی»دیوان شمس»غزلیات»غزل شمارهٔ 2609

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00