صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 107

غزل شمارهٔ 107

شاعر: سعدی

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)

قافیہ: ویدوست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شادی به روزگار گدایان کوی دوست

بر خاک ره نشسته به امید روی دوست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 106

اگلی نظم

مرا خود با تو چیزی در میان هست

و گر نه روی زیبا در جهان هست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 108

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

شکوه ام آتش زبان گردیده است از خوی دوست

آه اگر آبی بر این آتش نریزد روی دوست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1232

تیغ بر خورشید خواباند خم ابروی دوست

در کمند آرد صبا را زلف عنبر بوی دوست

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 1233

گر شوم صد سال محروم از نگاه روی دوست

دیده نگشایم مگر وقتی که آیم سوی دوست

عرفی»غزلیات»غزل شمارهٔ 122

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00