صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 113

غزل شمارهٔ 113

شاعر: سعدی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: اییست

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

زهی رفیق که با چون تو سروبالایی است

که از خدای بر او نعمتی و آلایی است

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 112

اگلی نظم

دردی‌ست دردِ عشق که هیچش طبیب نیست

گر دردمندِ عشق بنالد غریب نیست

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 114

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ز خویش‌ مگذر اگر جوهرت‌ شناسایی‌ ست

که خو‌‌دپرستی عالم‌، بهار یکتایی‌ست

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 803

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00