صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. سعدی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 415

غزل شمارهٔ 415

شاعر: سعدی

وزن: مفعول مفاعلن مفاعیلن (هزج مسدس اخرب مقبوض)

قافیہ: انم

صنف: غزل

Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

اگر دستم رسد روزی که انصاف از تو بستانم

قضای عهدِ ماضی را شبی دستی برافشانم

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 414

اگلی نظم

بس که در منظر تو حیرانم

صورتت را صفت نمی‌دانم

سعدی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 416

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00