صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. رودکی
  2. »ابیات پراکنده
  3. »شمارهٔ 140

شمارهٔ 140

شاعر: رودکی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)

قافیہ: انگشتهاورانهعددبودونهمره

صنف: غزل/قصیده/قطعه

Toggle stanza 1
1

در راه نشابور دهی دیدم بس خوب

انگشتهٔ او را نه عدد بود و نه مره

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر نعم‌های او چو چرخ دوان

همه خوابست و خواب بادفره

رودکی»ابیات پراکنده»شمارهٔ 139

اگلی نظم

جعدی سیاه دارد، کز کشی

پنهان شود بدو در سرخاره

رودکی»ابیات پراکنده»شمارهٔ 141

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور