شاعر
حکیم ابومحمد الیاس بن یوسف نظامی گنجوی (1135ء تا 1202ء)، فارسی زبان کے عظیم مثنوی نگاروں اور کلاسیکی ادب کی ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ گنجہ میں پیدا ہوئے، جو اس زمانے میں آذربائیجان کے ثقافتی مراکز میں سے ایک تھا۔ نظامی نے اپنی شاعری کے ذریعے فارسی شاعری کی داستانوی و رومانوی روایت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا اور ایسی ادبی روایت قائم کی جس کے اثرات صدیوں تک فارسی، اردو، ترکی اور دیگر زبانوں کے ادب پر نمایاں رہے۔
نظامی گنجوی اپنے عہد کے علوم و فنون پر گہری نظر رکھتے تھے۔ حکمت، فلسفہ، دینی علوم، طب، ریاضی، نجوم اور موسیقی سے ان کی واقفیت ان کے کلام میں جابجا نظر آتی ہے۔ اسی علمی وسعت اور فکری گہرائی کے باعث انہیں صرف شاعر ہی نہیں بلکہ اہلِ حکمت و دانش میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔
ان کی سب سے مشہور تصنیف خمسہ یا پنج گنج ہے، جو پانچ مثنویوں پر مشتمل ایک عظیم ادبی مجموعہ ہے۔ اس میں مخزن الاسرار، خسرو و شیرین، لیلیٰ و مجنون، ہفت پیکر اور اسکندرنامہ شامل ہیں۔ یہ مثنویاں فارسی ادب کے شاہکاروں میں شمار ہوتی ہیں اور دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔
نظامی کے دیوان میں قصائد، غزلیات، قطعات اور رباعیات بھی شامل ہیں، تاہم ان کی عالمی شہرت کا بنیادی سبب ان کی مثنویاں ہیں۔ ان کا انتقال 1202ء میں گنجہ میں ہوا، اور آج بھی انہیں فارسی شاعری کی داستانوی و رومانوی روایت کا اہم ترین نمائندہ شاعر سمجھا جاتا ہے۔