شاعر
امیر خسرو دہلوی (1254ء تا 1324ء) فارسی زبان کے نامور شاعر، ادیب، موسیقار اور صوفی تھے۔ آپ دہلی میں پیدا ہوئے اور برصغیر میں فارسی ادب کی ترقی اور ترویج میں غیر معمولی کردار ادا کیا۔ امیر خسرو کو ہندوستانی فارسی شاعری کا پہلا نمایاں ترین نمائندہ شاعر سمجھا جاتا ہے، اور ان کا شمار فارسی زبان کے عظیم کلاسیکی شعرا میں ہوتا ہے۔
ابتدائی تعلیم و تربیت کے بعد انہوں نے شاعری اور ادب کی دنیا میں قدم رکھا اور جلد ہی اپنے عہد کے سلاطین اور امرا کے درباروں میں ممتاز مقام حاصل کر لیا۔ امیر خسرو نہ صرف شاعری میں یکتا تھے بلکہ موسیقی میں بھی گہری مہارت رکھتے تھے، اور انہیں ہندوستانی موسیقی کی تاریخ کی اہم ترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت میں علم، ادب، موسیقی اور تصوف کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔
امیر خسرو نے نظم و نثر دونوں میدانوں میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کے ادبی آثار میں متعدد دیوان، مثنویاں، قصائد، غزلیات اور نثری تصانیف شامل ہیں۔ انہوں نے نظامی گنجوی کی خمسہ سے متاثر ہو کر اپنا خمسہ بھی تصنیف کیا، جو فارسی ادب کے اہم شاہکاروں میں شمار ہوتا ہے۔
تصوف کے میدان میں امیر خسرو، حضرت نظام الدین اولیا کے مرید اور نہایت عقیدت مند تھے۔ ان کی شاعری میں عشق، عرفان، انسان دوستی اور روحانی وابستگی کے مضامین نمایاں ہیں، جنہوں نے صدیوں سے اہلِ ادب اور اہلِ تصوف کو متاثر کیا ہے۔
امیر خسرو دہلوی نے 1324ء میں دہلی میں وفات پائی۔ ان کا ادبی اور ثقافتی ورثہ آج بھی برصغیر اور فارسی دنیا کی مشترکہ تہذیبی میراث کا درخشاں حصہ سمجھا جاتا ہے۔