دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار
Toggle stanza 1دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار
11
دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار
دیکھیے کیا کچھ ہمارے سر پہ لاتی ہے بہار
22
شاید عزم یار کی گلشن میں پہنچی ہے خبر
گل کے پیراہن میں پھولی نئیں سماتی ہے بہار
33
دیکھنے دے باغباں اب گلستاں اپنا مجھے
حلقۂ زنجیر میں مہماں بلاتی ہے بہار
44
شور یہ غنچوں کے واشد کا نہیں اے عندلیب
اب چمن میں طمطراق اپنا دکھاتی ہے بہار
55
کیوں پھنسا گلشن میں یوں جا کر عبث سودا تو اب
میں نہ کہتا تھا تجھے وہ دیکھ آتی ہے بہار
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

