دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار

Toggle stanza 1
دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار
1

دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار

دیکھیے کیا کچھ ہمارے سر پہ لاتی ہے بہار

2

شاید عزم یار کی گلشن میں پہنچی ہے خبر

گل کے پیراہن میں پھولی نئیں سماتی ہے بہار

3

دیکھنے دے باغباں اب گلستاں اپنا مجھے

حلقۂ زنجیر میں مہماں بلاتی ہے بہار

4

شور یہ غنچوں کے واشد کا نہیں اے عندلیب

اب چمن میں طمطراق اپنا دکھاتی ہے بہار

5

کیوں پھنسا گلشن میں یوں جا کر عبث سودا تو اب

میں نہ کہتا تھا تجھے وہ دیکھ آتی ہے بہار

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…
دھوم سے سنتے ہیں اب کی سال آتی ہے بہار — Ghazaliyat · ZindeRood