دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف
Toggle stanza 1دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف
11
دیکھوں ہوں یوں میں اس ستم ایجاد کی طرف
جوں صید وقت ذبح کے صیاد کی طرف
22
نے دانہ ہم قیاس کیا نے لحاظ دام
دھنس گئے قفس میں دیکھ کے صیاد کی طرف
33
ثابت نہ ہووے خون مرا روز باز پرس
بولیں گے اہل حشر سو جلاد کی طرف
44
پتھر کی لیکھ تھا سخن اس کا ہزار حیف
بولی زبان تیشہ نہ فرہاد کی طرف
55
طرہ کے تیرے واسطے صد چوب شانہ دار
قمری گئی ہے کاٹنے شمشاد کی طرف
66
سوداؔ تو اس غزل کو غزل در غزل ہی کہہ
ہونا ہے تجھ کو میرؔ سے استاد کی طرف
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

