دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا

Toggle stanza 1
دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا
1

دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا

سخت مہم تھی کہ وہ سر کر گیا

2

وہم غلط کار نے دل خوش کیا

کس پہ نہ جانے وہ نظر کر گیا

3

جا ہی بھڑا تجھ صف مژگاں سے یار

دل تو مرا زور جگر کر گیا

4

رات ملا تھا مجھے تنہا رقیب

یار خدا کا ہی میں ڈر کر گیا

5

فیض ترے وصف بنا گوش کا

اپنے سخن کو تو گہر کر گیا

6

دیکھ لی ساقی کی بھی دریا دلی

لب نہ ہمارے کبھو تر کر گیا

7

کیوں کے کراہوں نہ شب و روز میں

درد مرے پہلو میں گھر کر گیا

8

نفع کو پہنچا یہ تجھے دے کے دل

جان کا اپنی میں ضرر کر گیا

9

اور غزل اب کوئی سودا تو کہہ

یہ تو یوں ہی تھی میں نظر کر گیا

Zameen

Poems with the Same Metre and Rhyme

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…