دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا
Toggle stanza 1دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا
11
دل میں ترے جو کوئی گھر کر گیا
سخت مہم تھی کہ وہ سر کر گیا
22
وہم غلط کار نے دل خوش کیا
کس پہ نہ جانے وہ نظر کر گیا
33
جا ہی بھڑا تجھ صف مژگاں سے یار
دل تو مرا زور جگر کر گیا
44
رات ملا تھا مجھے تنہا رقیب
یار خدا کا ہی میں ڈر کر گیا
55
فیض ترے وصف بنا گوش کا
اپنے سخن کو تو گہر کر گیا
66
دیکھ لی ساقی کی بھی دریا دلی
لب نہ ہمارے کبھو تر کر گیا
77
کیوں کے کراہوں نہ شب و روز میں
درد مرے پہلو میں گھر کر گیا
88
نفع کو پہنچا یہ تجھے دے کے دل
جان کا اپنی میں ضرر کر گیا
99
اور غزل اب کوئی سودا تو کہہ
یہ تو یوں ہی تھی میں نظر کر گیا
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

