کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل

Toggle stanza 1
کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل
1

کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل

میرے لیے چمن بھی بیاباں نکل گیا

2

دست جنوں کا ضعف سے اٹھنا محال تھا

کیا جانے کس طرح سے گریباں نکل گیا

3

دل میں تو آگ ہی وہی اب تک لگی ہوئی

مانا کہ چشم شوق کا ارماں نکل گیا

4

جوش جنوں سے کچھ نہ چلی ضبط عشق کی

سو سو جگہ سے آج گریباں نکل گیا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…