پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کر

Toggle stanza 1
پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کر
1

پہلے تو حسن عمل حسن یقیں پیدا کر

پھر اسی خاک سے فردوس بریں پیدا کر

2

یہی دنیا کہ جو بت خانہ بنی جاتی ہے

اسی بت خانے سے کعبے کی زمیں پیدا کر

3

روح آدم نگراں کب سے ہے تیری جانب

اٹھ اور اک جنت جاوید یہیں پیدا کر

4

خس و خاشاک توہم کو جلا کر رکھ دے

یعنی آتش کدۂ سوز یقیں پیدا کر

5

غم میسر ہے تو اس کو غم کونین بنا

دل حسیں ہے تو محبت بھی حسیں پیدا کر

6

آسماں مرکز تخئیل و تصور کب تک

آسماں جس سے خجل ہو وہ زمیں پیدا کر

7

دل کے ہر قطرہ میں طوفان تجلی بھر دے

بطن ہر ذرہ سے اک مہر مبیں پیدا کر

8

بندگی یوں تو ہے انسان کی فطرت لیکن

ناز جس پہ کریں سجدے وہ جبیں پیدا کر

9

پستئ خاک پہ کب تک تری بے بال و پری

پھر مقام اپنا سر عرش بریں پیدا کر

10

عشق ہی زندہ و پایندہ حقیقت ہے جگرؔ

عشق کو عام بنا ذوق یقیں پیدا کر

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…