کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل
Toggle stanza 1کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل
11
کانٹا تھا چشم یاس میں ایک ایک رنگ گل
میرے لیے چمن بھی بیاباں نکل گیا
22
دست جنوں کا ضعف سے اٹھنا محال تھا
کیا جانے کس طرح سے گریباں نکل گیا
33
دل میں تو آگ ہی وہی اب تک لگی ہوئی
مانا کہ چشم شوق کا ارماں نکل گیا
44
جوش جنوں سے کچھ نہ چلی ضبط عشق کی
سو سو جگہ سے آج گریباں نکل گیا
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

