کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار

Toggle stanza 1
کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار
1

کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار

تلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتار

2

کج ایسی نہ تھی آگے مرے یار کی رفتار

سیکھا ہے مگر چرخ ستم گار کی رفتار

3

سر گرتے ہیں کٹ کٹ کے وہ رکھتا ہے جہاں پاؤں

سیکھی ہے مگر یار نے تلوار کی رفتار

4

گردش ہے تری نرگس بیمار کو دن رات

دیکھی نہیں ایسی کسی بیمار کی رفتار

5

ٹلتی نہیں زلفوں کے تصور کی طرح سے

ہے طرفہ جدائی کی شب تار کی رفتار

6

لغزش نہ ہو کیوں کر رہ دیں میں مجھے زاہد

یاد آ گئی اس کافر مے خوار کی رفتار

7

ظالم ترے کوچے سے قدم اٹھ نہیں سکتا

کیوں کر نہ چلوں سایۂ دیوار کی رفتار

8

کیا مار کو نسبت ترے گیسو کے چلن سے

ہے سایۂ گیسو میں صنم مار کی رفتار

9

موتی عوض نقش قدم گرتے ہیں ناسخؔ

ایسی ہے مری کلک گہر بار کی رفتار

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…
کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار — Ghazaliyat · ZindeRood