کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار
Toggle stanza 1کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار
11
کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار
تلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتار
22
کج ایسی نہ تھی آگے مرے یار کی رفتار
سیکھا ہے مگر چرخ ستم گار کی رفتار
33
سر گرتے ہیں کٹ کٹ کے وہ رکھتا ہے جہاں پاؤں
سیکھی ہے مگر یار نے تلوار کی رفتار
44
گردش ہے تری نرگس بیمار کو دن رات
دیکھی نہیں ایسی کسی بیمار کی رفتار
55
ٹلتی نہیں زلفوں کے تصور کی طرح سے
ہے طرفہ جدائی کی شب تار کی رفتار
66
لغزش نہ ہو کیوں کر رہ دیں میں مجھے زاہد
یاد آ گئی اس کافر مے خوار کی رفتار
77
ظالم ترے کوچے سے قدم اٹھ نہیں سکتا
کیوں کر نہ چلوں سایۂ دیوار کی رفتار
88
کیا مار کو نسبت ترے گیسو کے چلن سے
ہے سایۂ گیسو میں صنم مار کی رفتار
99
موتی عوض نقش قدم گرتے ہیں ناسخؔ
ایسی ہے مری کلک گہر بار کی رفتار
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

