کون سا تن ہے کہ مثل روح اس میں تو نہیں
Poet: Imam Bakhsh Nasikh
Toggle stanza 1کون سا تن ہے کہ مثل روح اس میں تو نہیں
کون سا تن ہے کہ مثل روح اس میں تو نہیں
کون گل ہے جو ترا مسکن برنگ بو نہیں
جام نرگس میں کہاں شبنم جو نکلے آفتاب
یار کے آگے مری آنکھوں میں اک آنسو نہیں
یاد گیسو میں ہوا میرا یہ دھجی سا بدن
مجھ پہ پھبتی کہتے ہیں موباف ہے گیسو نہیں
جسم ایسا گھل گیا ہے مجھ مریض عشق کا
دیکھ کر کہتے ہیں سب تعویذ ہے بازو نہیں
دیکھے ہیں ہنسنے میں جس دن سے در دندان یار
چین مثل گوہر غلطاں کسی پہلو نہیں
عشق میں بدمست ہوں میں پر کوئی واقف نہیں
نشہ ہے جام مئے الفت میں لیکن بو نہیں
زلف جاناں میں نہیں کوئی دل وحشی اسیر
یہ عجب تاتار ہے جو ایک بھی آہو نہیں
ہو گیا ہے یہ قران آفتاب و ماہ نو
یار کے رخسار آتش رنگ پر ابرو نہیں
ہو گیا ہے مثل مو تار نگہ اپنا سیاہ
آگے آنکھوں کے صنم جب سے ترے گیسو نہیں
رات دن ناقوس کہتے ہیں بآواز بلند
دیر سے بہتر ہے کعبہ گر بتوں میں تو نہیں
قمریاں دیوانی ہیں کیونکر گلے میں ہو نہ طوق
باغ میں اک سرو مثل قامت دل جو نہیں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

