قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں
Toggle stanza 1قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں
قامت یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں
سرو کو صدقے میں آزاد کیا کرتے ہیں
زلف شب رنگ کو ہم یاد کیا کرتے ہیں
شب تاریک میں فریاد کیا کرتے ہیں
نگۂ یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں
دیکھ کر برق کو فریاد کیا کرتے ہیں
کوچۂ یار کو ہم یاد کیا کرتے ہیں
جا کے گل زار میں فریاد کیا کرتے ہیں
گھر جو بے یار ہے ویراں تو تصور میں مدام
خانۂ دل کو ہم آباد کیا کرتے ہیں
رشک سے نام نہیں لیتے کہ سن لے نہ کوئی
دل ہی دل میں اسے ہم یاد کیا کرتے ہیں
گزرے ہیں کوچۂ کاکل سے صبا کے جھونکے
نکہت گل کو جو برباد کیا کرتے ہیں
ہوتے ہیں جاتے ہی مکتب میں پری رو خوں ریز
کیا یہ جلادوں کو استاد کیا کرتے ہیں
پھونک دیں نالۂ سوزاں سے اگر چاہیں قفس
ہم فقط خاطر صیاد کیا کرتے ہیں
ہوتی ہے آفت خط قہر خدا سے نازل
یہ صنم ہم پہ جو بیداد کیا کرتے ہیں
ملک الموت اگر کہیے انہیں تو ہے بجا
قتل بے تیغ پری زاد کیا کرتے ہیں
تو وہ صیاد ہے جو وار کے تجھ پر لاکھوں
طائر روح کو آزاد کیا کرتے ہیں
انتقام اس کا کہیں لے نہ فلک ڈرتا ہوں
جھوٹے وعدوں سے جو وہ شاد کیا کرتے ہیں
تیرا دیوان ہے کیا سامنے ان کے ناسخؔ
جو کہ قرآن پہ ایراد کیا کرتے ہیں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

