چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہو
Toggle stanza 1چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہو
چوٹ دل کو جو لگے آہ رسا پیدا ہو
صدمہ شیشہ کو جو پہنچے تو صدا پیدا ہو
کشتۂ تیغ جدائی ہوں یقیں ہے مجھ کو
عضو سے عضو قیامت میں جدا پیدا ہو
ہم ہیں بیمار محبت یہ دعا مانگتے ہیں
مثل اکسیر نہ دنیا میں دوا پیدا ہو
کہہ رہا ہے جرس قلب بآواز بلند
گم ہو رہبر تو ابھی راہ خدا پیدا ہو
کس کو پہنچا نہیں اے جان ترا فیض قدم
سنگ پر کیوں نہ نشان کف پا پیدا ہو
مل گیا خاک میں پس پس کے حسینوں پر میں
قبر پر بوئیں کوئی چیز حنا پیدا ہو
اشک تھم جائیں جو فرقت میں تو آہیں نکلیں
خشک ہو جائے جو پانی تو ہوا پیدا ہو
یاں کچھ اسباب کے ہم بندے ہی محتاج نہیں
نہ زباں ہو تو کہاں نام خدا پیدا ہو
گل تجھے دیکھ کے گلشن میں کہیں عمر دراز
شاخ کے بدلے وہیں دست دعا پیدا ہو
بوسہ مانگا جو دہن کا تو وہ کیا کہنے لگے
تو بھی مانند دہن اب کہیں نا پیدا ہو
نہ سر زلف ملا بل بے درازی تیری
رشتۂ طول امل کا بھی سرا پیدا ہو
کس طرح سچ ہے نہ خورشید کو رجعت ہو جائے
تجھ سا آفاق میں جب ماہ لقا پیدا ہو
ابھی خورشید جو چھپ جائے تو ذرات کہاں
تو ہی پنہاں ہو تو پھر کون بھلا پیدا ہو
کیا مبارک ہے مرا دست جنوں اے ناسخؔ
بیضۂ بوم بھی ٹوٹے تو ہما پیدا ہو
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

