چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیں

Toggle stanza 1
چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیں
1

چین دنیا میں زمیں سے تا فلک دم بھر نہیں

داغ ہیں یہ گل نہیں ناسور ہیں اختر نہیں

2

سر رہے یا جائے کچھ ہم میکشوں کو ڈر نہیں

کون سا مینائے مے اے محتسب بے سر نہیں

3

وہ بت شیریں ادا کرتا ہے مجھ کو سنگسار

یہ شکر پارے برستے ہیں جنوں پتھر نہیں

4

ہو رہا ہے ایک عالم تیرے ابرو پر نثار

کون گردن ہے جہاں میں جو تہ خنجر نہیں

5

دم نکلنے پر جو آتا ہے نہیں رکتا ہے پھر

دیکھ لو قصر حباب اے اہل غفلت در نہیں

6

آدمی تو کیا وہ کہتا ہے نشان پا سے بھی

کیوں پڑا ہے میرے کوچے میں ترا کیا گھر نہیں

7

اے تصور کیوں بتوں کو جمع کرتا ہے یہاں

دل مرا کعبہ ہے کچھ بت خانۂ آزر نہیں

8

شکوہ جو بے نوکری کا کرتے ہیں نادان ہیں

آپ آقا ہے کسی کا جو کوئی نوکر نہیں

9

ہے خرابات جہاں میں بھی وہ ساقی سے نفور

جو کہ اے ناسخؔ غلام ساقیٔ کوثر نہیں

Zameen

Poems with the Same Metre and Rhyme

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…