جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا
Toggle stanza 1جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا
11
جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا
بجھتا ہے چراغ آج سر شام ہمارا
22
ایسا کوئی گمنام زمانے میں نہ ہوگا
گم ہو وہ نگیں جس پہ کھدے نام ہمارا
33
اول تو نہ قاصد کو رہے کوئے صنم یاد
پہنچے تو فراموش ہو پیغام ہمارا
44
ہم گو کہ ہیں دیوانے مگر غرق یم اشک
یونان کے مانند ہوا نام ہمارا
55
مے پائی نہ پینے کو تو ہم پی گئے آنسو
اشکوں سے بھی ساقی نہ بھرا جام ہمارا
66
کعبے میں بھی وحشت کی رہی دست درازی
صد چاک کیا جامۂ احرام ہمارا
77
طفلی میں تھی اک دایہ ہیں اب چار کے کاندھے
آغاز سے کیا خوب ہے انجام ہمارا
88
اک آدھ رہے جسم مشبک میں ترا تیر
خالی نہ کبھی صید سے ہو دام ہمارا
99
کام اوروں کے جاری رہیں ناکام رہیں ہم
اب آپ کی سرکار میں کیا کام ہمارا
1010
ناسخؔ کہیں جلد آ کے کہیں قاصد جاناں
خط لیجئے دلوایئے انعام ہمارا
Zameen
Poems with the Same Metre and Rhyme
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

