جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا

Toggle stanza 1
جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا
1

جی لیتی ہے وہ زلف سیہ فام ہمارا

بجھتا ہے چراغ آج سر شام ہمارا

2

ایسا کوئی گمنام زمانے میں نہ ہوگا

گم ہو وہ نگیں جس پہ کھدے نام ہمارا

3

اول تو نہ قاصد کو رہے کوئے صنم یاد

پہنچے تو فراموش ہو پیغام ہمارا

4

ہم گو کہ ہیں دیوانے مگر غرق یم اشک

یونان کے مانند ہوا نام ہمارا

5

مے پائی نہ پینے کو تو ہم پی گئے آنسو

اشکوں سے بھی ساقی نہ بھرا جام ہمارا

6

کعبے میں بھی وحشت کی رہی دست درازی

صد چاک کیا جامۂ احرام ہمارا

7

طفلی میں تھی اک دایہ ہیں اب چار کے کاندھے

آغاز سے کیا خوب ہے انجام ہمارا

8

اک آدھ رہے جسم مشبک میں ترا تیر

خالی نہ کبھی صید سے ہو دام ہمارا

9

کام اوروں کے جاری رہیں ناکام رہیں ہم

اب آپ کی سرکار میں کیا کام ہمارا

10

ناسخؔ کہیں جلد آ کے کہیں قاصد جاناں

خط لیجئے دلوایئے انعام ہمارا

Zameen

Poems with the Same Metre and Rhyme

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…