رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا

Toggle stanza 1
رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا
1

رخ جو زیر سنبل پر پیچ و تاب آ جائے گا

پھر کے برج سنبلہ میں آفتاب آ جائے گا

2

تیرا احساں ہوگا قاصد گر شتاب آ جائے گا

صبر مجھ کو دیکھ کر خط کا جواب آ جائے گا

3

ہو نہ بیتاب اتنا گر اس کا عتاب آ جائے گا

تو غضب میں اے دل خانہ خراب آ جائے گا

4

اس قدر رونا نہیں بہتر بس اب اشکوں کو روک

ورنہ طوفاں دیکھ اے چشم پر آب آ جائے گا

5

پیش ہووے گا اگر تیرے گناہوں کا حساب

تنگ ظالم عرصۂ روز حساب آ جائے گا

6

دیکھ کر دست ستم میں تیری تیغ آب دار

میرے ہر زخم جگر کے منہ میں آب آ جائے گا

7

اپنی چشم مست کی گردش نہ اے ساقی دکھا

دیکھ چکر میں ابھی جام شراب آ جائے گا

8

خوب ہوگا ہاں جو سینہ سے نکل جائے گا تو

چین مجھ کو اے دل پر اضطراب آ جائے گا

9

اے ظفرؔ اٹھ جائے گا جب پردہ شرم و حجاب

سامنے وہ یار میرے بے حجاب آ جائے گا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…