زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی

Toggle stanza 1
زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی
1

زلف جو رخ پر ترے اے مہر طلعت کھل گئی

ہم کو اپنی تیرہ روزی کی حقیقت کھل گئی

2

کیا تماشا ہے رگ لیلیٰ میں ڈوبا نیشتر

فصد مجنوں باعث جوش محبت کھل گئی

3

دل کا سودا اک نگہ پر ہے تری ٹھہرا ہوا

نرخ تو کیا پوچھتا ہے اب تو قیمت کھل گئی

4

آئینے کو ناز تھا کیا اپنے روئے صاف پر

آنکھ ہی پر دیکھتے ہی تیری صورت کھل گئی

5

تھی اسیران قفس کو آرزو پرواز کی

کھل گئی کھڑکی قفس کی کیا کہ قسمت کھل گئی

6

تیرے عارض پر ہوا آخر غبار خط نمود

کھل گئی آئینہ رو دل کی کدورت کھل گئی

7

بے تکلف آئے تم کھولے ہوئے بند قبا

اب گرہ دل کی ہمارے فی الحقیقت کھل گئی

8

باندھی زاہد نے توکل پر کمر سو بار چست

لیکن آخر باعث سستی ہمت کھل گئی

9

کھلتے کھلتے رک گئے وہ ان کو تو نے اے ظفرؔ

سچ کہو کس آنکھ سے دیکھا کہ چاہت کھل گئی

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…