سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجود

Toggle stanza 1
سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجود
1

سب رنگ میں اس گل کی مرے شان ہے موجود

غافل تو ذرا دیکھ وہ ہر آن ہے موجود

2

ہر تار کا دامن کے مرے کر کے تبرک

سربستہ ہر اک خار بیابان ہے موجود

3

عریانی تن ہے یہ بہ از خلعت شاہی

ہم کو یہ ترے عشق میں سامان ہے موجود

4

کس طرح لگاوے کوئی داماں کو ترے ہاتھ

ہونے کو تو اب دست و گریبان ہے موجود

5

لیتا ہی رہا رات ترے رخ کی بلائیں

تو پوچھ لے یہ زلف پریشان ہے موجود

6

تم چشم حقیقت سے اگر آپ کو دیکھو

آئینۂ حق میں دل انسان ہے موجود

7

کہتا ہے ظفرؔ ہیں یہ سخن آگے سبھوں کے

جو کوئی یہاں صاحب عرفان ہے موجود

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…