شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف
Toggle stanza 1شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف
11
شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف
چیرے ہے سینہ رات کو یہ موشگاف زلف
22
جس طرح سے کہ کعبہ پہ ہے پوشش سیاہ
اس طرح اس صنم کے ہے رخ پر غلاف زلف
33
برہم ہے اس قدر جو مرے دل سے زلف یار
شامت زدہ نے کیا کیا ایسا خلاف زلف
44
مطلب نہ کفر و دیں سے نہ دیر و حرم سے کام
کرتا ہے دل طواف عذار و طواف زلف
55
ناف غزال چیں ہے کہ ہے نافۂ تتار
کیونکر کہوں کہ ہے گرہ زلف ناف زلف
66
آپس میں آج دست و گریباں ہے روز و شب
اے مہروش زری کا نہیں موئے باف زلف
77
کہتا ہے کوئی جیم کوئی لام زلف کو
کہتا ہوں میں ظفرؔ کہ مسطح ہے کاف زلف
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

