شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف

Toggle stanza 1
شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف
1

شانے کی ہر زباں سے سنے کوئی لاف زلف

چیرے ہے سینہ رات کو یہ موشگاف زلف

2

جس طرح سے کہ کعبہ پہ ہے پوشش سیاہ

اس طرح اس صنم کے ہے رخ پر غلاف زلف

3

برہم ہے اس قدر جو مرے دل سے زلف یار

شامت زدہ نے کیا کیا ایسا خلاف زلف

4

مطلب نہ کفر و دیں سے نہ دیر و حرم سے کام

کرتا ہے دل طواف عذار و طواف زلف

5

ناف غزال چیں ہے کہ ہے نافۂ تتار

کیونکر کہوں کہ ہے گرہ زلف ناف زلف

6

آپس میں آج دست و گریباں ہے روز و شب

اے مہروش زری کا نہیں موئے باف زلف

7

کہتا ہے کوئی جیم کوئی لام زلف کو

کہتا ہوں میں ظفرؔ کہ مسطح ہے کاف زلف

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…