دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے

Toggle stanza 1
دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے
1

دیکھو انساں خاک کا پتلا بنا کیا چیز ہے

بولتا ہے اس میں کیا وہ بولتا کیا چیز ہے

2

روبرو اس زلف کے دام بلا کیا چیز ہے

اس نگہ کے سامنے تیر قضا کیا چیز ہے

3

یوں تو ہیں سارے بتاں غارتگر ایمان و دیں

ایک وہ کافر صنم نام خدا کیا چیز ہے

4

جس نے دل میرا دیا دام محبت میں پھنسا

وہ نہیں معلوم مج کو ناصحا کیا چیز ہے

5

ہووے اک قطرہ جو زہراب محبت کا نصیب

خضر پھر تو چشمۂ آب بقا کیا چیز ہے

6

مرگ ہی صحت ہے اس کی مرگ ہی اس کا علاج

عشق کا بیمار کیا جانے دوا کیا چیز ہے

7

دل مرا بیٹھا ہے لے کر پھر مجھی سے وہ نگار

پوچھتا ہے ہاتھ میں میرے بتا کیا چیز ہے

8

خاک سے پیدا ہوئے ہیں دیکھ رنگا رنگ گل

ہے تو یہ ناچیز لیکن اس میں کیا کیا چیز ہے

9

جس کی تجھ کو جستجو ہے وہ تجھی میں ہے ظفرؔ

ڈھونڈتا پھر پھر کے تو پھر جا بجا کیا چیز ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…